غزل – صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے

صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے
ہم محوِ خواب ہونے سے پہلے سنبھل گئے

جن کی وفا پہ مجھ کو بہت ناز تھا کبھی
آیا جو وقت وہ بھی نگاہیں بدل گئے

وحشت شبِ فراق سے ہوتی بھی کیا ہمیں
داغِ جگر چراغوں کی مانند جل گئے

پیکر تراشوں کیسے کہ اب نالہ ہائے دِل
لفظوں کے اختیار سے باہر نکل گئے

تھا چاہیے تو یہ کہ بدلتے مزاجِ وقت
یہ کیا کہ ہم بھی وقت کے سانچے میں ڈھل گئے

غزل – زمین سرخی زماں سرخی مکیں سرخی مکاں سرخی

زمین سرخی زماں سرخی مکیں سرخی مکاں سرخی
بایں انداز اُگلے جارہی ہے’کن فکاں‘سرخی
جبیں ٹکرائی ہے سورج نے شب کے آستانے سے
شفق صورت جو چھٹکی ہے کنار آسماں سرخی
برس جاتا ہے ساون جب کبھی کشت دل وجاں پر
درون چشم اگ آتے ہیں ویرانی دھواں سرخی
بیاں کرتا ہے قصہ اور ہی منظر وقوعہ کا
مگر اخبار والوں نے لگائی ہے کہاں سرخی
گلابی تو برائے دیگراں چھلکی تھی محفل میں
ابھرآئی تھی ہونٹوں پر ہمارے ناگہاں سرخی
سفیدی ہی سفیدی رقص کرتی ہے رگوں میں اب
گئے وہ دن کہ شریانوں میں ہوتی تھی رواں سرخی
کئی صدیوں سے ہوں بے سمت راہوں کا مسافر میں
مرے قدموں تلے ہوتی رہی ہے رائیگاں سرخی
مسلسل ہی غموں نے دل کے دروازے پہ دستک دی
مسلسل ہی مری آنکھوں میں تھی نوحہ کناں سرخی
ہماری زندگی گویا کہ ہے اک دائرہ صارمؔ
ید قدرت نے رکھ چھوڑی ہے جس کے درمیاں سرخی

غزل – بستیاں ہوگئیں ویران کہاں جائیں گے

بستیاں ہوگئیں ویران کہاں جائیں گے
سب لیے بیٹھے ہیں طوفان کہاں جائیں گے

شاخ گل جس پہ نشیمن تھا وہی ٹوٹ گئی
ہوگئے بے سروسامان کہاں جائیں گے

اے غم دل، ہے کیوں آمادہ، جدا کرنے پر
اشک ہیں آنکھ کے مہمان کہاں جائیں گے

سوچیے جانے سے پہلے کہ اگر ختم ہوا
لوٹ کر آنے کا امکان کہاں جائیں گے

دوڑتی بھاگتی سڑکوں کا ہے یہ شہر، یہاں
ہے کوئی جان نہ پہچان کہاں جائیں گے

عالم تشنہ لبی قید میں دریائے فرات
اور لہو مانگتا میدان کہاں جائیں گے

ہے کھنڈر عظمت رفتہ کا یہ دنیا اشہرؔ
اب تو رہتے نہیں انسان کہاں جائیں گے

غزل

یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے
کہ آج روند کے گزرا ہے میرا سایہ مجھے

میں جیسے وقت کے ہاتھوں میں اک خزانہ تھا
کسی نے کھودیا مجھ کو کسی نے پایا مجھے

میں ایک لمحہ تھا اور نیند کے حصار میں تھا
پھر ایک روز کسی خواب نے جگایا مجھے

اِسی زمیں نے ستارہ کیا ہے میرا وجود
سمجھ رہے ہیں زمیں والے کیوں پرایا مجھے

جہاں کہ صدیوں کی خاموشیاں سلگتی ہیں
کسی خیال کی وحشت نے گنگنایا مجھے

نہ جانے کون ہوں، کس لمحۂ طلب میں ہوں
نبیلؔ چین سے جینا کبھی نہ آیا مجھے

انسانیت کا پاٹھ پڑھاتے ہیں مدرسے

انسانیت کا پاٹھ پڑھاتے ہیں مدرسے
امن واماں کی راہ دکھاتے ہیں مدرسے

اُدّیش زندگی کا بتاتے ہیں مدرسے
بھٹکے ہووں کو راہ دکھاتے ہیں مدرسے

اس سرزمیں پہ کوئی بھی جاہل نہیں رہے
علم وعمل کی شمع جلاتے ہیں مدرسے

غربت میں بھی زبان پہ شکوہ نہیں کوئی
صبر وسکوں کی چاہ جگاتے ہیں مدرسے

عربی زبان واردو وہندی کے ساتھ ساتھ
قرآں، حدیث، فقہ پڑھاتے ہیں مدرسے

ہو پندرہ اگست یا چھبیس جنوری
سالوں سے ان کا جشن مناتے ہیں مدرسے

اپنے وطن سے پیار ہو، اہل وطن سے بھی
یہ بھاؤنا سبھی میں جگاتے ہیں مدرسے

نفرت کی آگ پھیل نہ جائے چہار سو
سوئے ہوئے ضمیر جگاتے ہیں مدرسے

سایے میں جس کے بیٹھ کے سب کو سکوں ملے
الفت کے ایسے پیڑلگاتے ہیں مدرسے

دیتے ہیں سب کو درس مساوات کا نعیمؔ
دنیا سے بھید بھاؤ مٹاتے ہیں مدرسے

حمد باری تعالی

تیرا پیکر سرِ منظر ہے نہ صورت تیری
پھر بھی ہر شے سے ہویدا ہے حقیقت تیری
یہ نبوت، یہ رسالت تو ہے رحمت تیری
ورنہ دیتی ہے ہر اک چیز شہادت تیری
جس میں شرکت ہو، وہ توحید کہاں ہوتی ہے
جس کو شرکت سے ہے نفرت، وہ ہے غیرت تیری
تیرا انکار اندھیروں کو جنم دیتا ہے
تیرے اثبات سے روشن ہے حکومت تیری
فلسفے نقش ہیں پھولوں کے سبک پتوں پر
ثبت ہے برگ گل ولالہ پہ عظمت تیری
تیرے ہونے کی خبر جب بھی سحر دیتی ہے
ہر شجر جھوم کے کرتا ہے عبادت تیری
فلسفی بیٹھ گئے عقل پہ تکیہ کرکے
تیرے اسرار سمجھ پائے نہ حکمت تیری
توُ تو دیتا ہے انہیں بھی جو ہیں باغی تیرے
’’منبع جود وسخا، عام ہے رحمت تیری‘‘
جس کو سائنس کہا کرتی ہے نیچر راشدؔ
میرا ایماں اسے کہتا ہے مشیّت تیری

کئی چاند تھے سرآسماں : ایک مطالعہ

4234 مربع کلو میٹر پر محیط،4.5 ملین سے زائد آبادی پر مشتمل، گھاگھرا اور گومتی ندی کے درمیانی حصہ پر آباد ضلع اعظم گڑھ اردو فکشن کی ثروت مند روایت کا ہمیشہ سے امین رہا ہے۔ ضلع کے جن اساطین علم نے اردو فکشن کے افق کو اپنی فکری فطانت، تخلیقی سرگرمیوں اور فنی مہارت سے روشن کیا ہے ان میں ایک ممتاز نام شمس الرحمان فاروقی کا ہے۔ جن کی شخصیت، تبحر علمی اور ادبی سرگرمیوں کا ہر ذی علم وفہم معترف ہے۔ فاروقی نے دنیائے علم وادب بالخصوص اردو زبان وادب کے ضمن میں جو اعلیٰ وارفع اور کثیر الجہات خدمات انجام دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ آپ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، محقق اور ماہر نقاد ہیں، نیز لغت نویسی، داستان، عروض اور ترجمہ وغیرہ کے میدان میں بھی طبع آزمائی کی ہے۔ بقول محمد عمر میمن:’’تبحر علمی، منطقی استدلال، تحریر کے ارتکاز اور موضوع کے عین قلب میں ایک بے پناہ قوت کے ساتھ اتر جانے کے اعتبار سے فاروقی نادر روزگار ہیں‘‘۔
ان کے انداز تحریر، منطقی استدلال اور لہجے کی قطعیت ووضاحت کو دیکھتے ہوئے انھیں موجودہ دور کا حالی قرار دیا گیا ہے، چنانچہ فضیل جعفری لکھتے ہیں:’’تنقید میں شمس الرحمن فاروقی کی کاوشیں اور ان کے نتائج نہ صرف قابل تحسین بلکہ قابل صدر شک ہیں۔ یہی سبب ہے کہ محمد حسن عسکری نے انھیں لکھا تھا کہ لوگ آپ کا نام حالی کے ساتھ لینے لگے ہیں یعنی یہ کہ جس طرح حالی نے اپنے زمانے میں تنقید کو چند رسوم وقیود سے نکال کر نئی آگہی بخشی، اسی طرح شمس الرحمان فاروقی میں ایک ایسا نقاد نظر آتا ہے جس نے تنقید کی ایک نئی بوطیقاترتیب دینے کی کوشش کی‘‘۔
شمس الرحمان فاروقی کسی شخص کا نہیں بلکہ تنقید نگاری کے ایک عہد کا نام ہے۔ جنھوں نے جدیدیت کے رجحانات کے فروغ کے ساتھ جدید تنقید میں روح پھونکی۔ مشرقی علوم پر کافی دسترس رکھنے کے ساتھ مغربی نظریات پر بھی ان کی نظر ہے۔ ان کے تنقیدی سرمایے پہ ایک نظر ڈالنے سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ جہاں ان کے تنقیدی مراحل میں مغربیات کو زیادہ اہمیت حاصل رہی، وہیں دوسرے مرحلہ میں(1975ء کے بعد) انھوں نے مشرقی شعر یات بالخصوص کلاسیکی نظام بلاغت، عروض اور بیان کے مسائل اور ادب وتہذیب کے رشتوں کی طرف خصوصی توجہ دی۔ غالب اور میرکی با زیافت کرکے انھوں نے عملی تنقید کا بہترین نمونہ پیش کیا۔
فاروقی نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز شاعری سے کیا، لیکن باقاعدہ آپ کی ادبی زندگی کا شمار’’شب خون‘‘ کی اشاعت (مئی1966ء) سے ہوتا ہے۔ اس کی ادارت کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ سارے انتظام وانصرام آپ ہی نے سنبھال رکھے تھے۔ افسوس کہ اب یہ رسالہ اردو زبان وادب کی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
بعد ازاں اردو فکشن کی طرف راغب ہوئے۔ یکے بعد دیگرے افسانے اور ناولٹ منظر عام پر آئے، تخلیقات کی اشاعت کا گراف مسلسل بڑھنے لگا۔ یہاں تک کہ چالیس سے زائد تصنیفات کے خالق بن گئے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق تحقیق و تنقیدسے ہے، البتہ آپ نے اپنی جنبش قلم سے ادب کی مختلف صنفوں پر بھی خامہ فرسائی کی ہے۔ چار شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ افسانوں کا مجموعہ ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ گرچہ ایک ہی ہے اورشہرہ آفاق ناول ’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ بھی صرف ایک ہی ہے، مگر دونوں کی حیثیت عہد آفریں کی سی ہے۔ فاروقی کی ادبی خدمات کی وجہ سے ملک وبیرون ملک مختلف اعزازات سے نوازا جاچکا ہے۔ معروف ترین تصنیف ’’شعر شورانگیز‘‘ جو چار جلدوں پر مشتمل ہے اس کو 1996ء میں’’سرسوتی سمان‘‘ جیسا اہم ایوارڈ ملا جسے برصغیر کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ کہا جاتا ہے اور اس کتاب کی وجہ سے اے ایم یو علی گڑھ کی جانب سے آپ کو اعزازی ڈی لٹ کی ڈگری بھی عطا کی گئی۔ حکومت پاکستان نے آپ کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے2010ء کا’’ستارہ امتیاز‘‘ ایوارڈ بھی دیا ہے جو وہاں کا دوسرا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے۔
آنے والی نسلیں تم پر ناز کریں گی اے لوگو
جب ان کو معلوم یہ ہوگا تم نے فراق کو دیکھا تھا
فاروقی 30ستمبر1935ء کو ضلع اعظم گڑھ کے معروف ومشہور موضع کوریا پار(موجودہ ضلع مؤ) میں پیدا ہوئے۔ والد محترم کا نام خلیل الرحمان اعظمی تھا۔ محکمۂ تعلیمات میں افسر تھے۔ فاروقی نے1949ء میں ہائی اسکول اور 1951ء میں انٹرمیڈیٹ پاس کیا۔ 1953ء میں گورکھپور سے گریجویشن (دوسال) کی ڈگری حاصل کی۔ 1955ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایم اے(انگلش) کی تکمیل امتیازی نمبرات سے کی اور دو دو گولڈمڈل حاصل کیے۔ آپ کو انگریزی، اردو اور فارسی زبانوں پربہترین قدرت حاصل ہے اور عربی، ہندی، فرنچ زبانوں سے اچھی واقفیت ہے۔ بعدہٗ شبلی نیشنل پوسٹ گریجویٹ کالج میں بحیثیت لکچرر آپ کا تقرر ہوگیا۔ ابھی دو سال بھی نہ گزرے تھے کہ آپ IASکے لئے منتخب ہوگئے اور ڈاک محکمہ میں اپنی خدمات انجام دیں۔ 1996ء میں بحیثیت ممبر پوسٹل سروسز بورڈ وظیفہ یاب ہوئے۔
شمس الرحمان فاروقی نے بچپن ہی سے خدمت قرطاس وقلم کو اپنا مشغلہ بنالیا تھا۔ اس وقت لکھنا شروع کردیا تھا جب درجہ ہفتم کے طالب علم تھے۔ اس وقت کے قلمی رسالہ کا نام’’گلستاں‘‘ رکھا تھا۔ ہائی اسکول تک جاتے جاتے یہ رسالہ بند ہوگیا تو دوسرے اخباروں اور رسالوں میں آپ کے مضامین اور افسانے شائع ہونے لگے۔ انٹر میڈیٹ میں داخلہ لیا تو میاں جی اسلامیہ کالج میگزین کے شعبہ انگریزی کے ایڈیٹر مقرر ہوگئے۔ اسی اثنا میں آپ جماعت اسلامی ہند کے ادبی حلقہ سے متعارف ہوئے تو تحریک ادب اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔ اپنی لیاقت اور صلاحیت کی وجہ سے ادارہ ادب اسلامی گورکھپور کے معتمد بھی رہے۔ اس وقت کا معروف ادبی رسالہ’’معیار‘‘(میرٹھ) بھی آپ کی توجہ کا مرکز رہا۔ کچھ دنوں تک آپ کے مضامین یہاں بھی شائع ہوتے رہے۔ ایک مشہور ناولٹ ’’دلدل سے باہر‘‘ نومبر1951ء تا فروری1952ء تک بالاقساط شائع ہوا۔ فاروقی کی قلمی کاوشوں کا یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا گیا یہاں تک کہ اب بھی یہ سلسلہ قائم ہے۔ اردو فکشن کی دنیا میں فاروقی کی ہمہ جہت شخصیت نے ایک عظیم ناول نگار کی حیثیت سے اپنی شناخت اس وقت قائم کرلی جب’’ کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ کے نام سے آپ کا ناول 2006ء میں منظرعام پر آیا۔ یہ ناول سب سے پہلے کراچی پھر الٰہ آباد سے شائع ہوا۔ دوسال بعد ایک معروف ومشہور بین الاقوامی ادارہ پنگوئن بکس نے اسے شائع کردیا۔ مشہور زمانہ ناول نگار انتظار حسین نے اس ناول کو اردو ادب کی دنیا میں صرف ہلچل سے ہی تعبیر نہیں کیا ہے بلکہ اسے’’امراؤ جان ادا‘‘ جیسے شاہکار ناول کے مماثل قرار دیا ہے۔
اس ناول کا عنوان’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ شمس الرحمان فاروقی نے اپنے ایک عزیز دوست مشتاق احمد کے شعرسے مستعار لیا ہے۔ پوراشعر ملاحظہ فرمائیں ؂
کئی چاند تھے سرآسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے
نہ لہو مرے ہی جگر میں تھانہ تمہاری زلف سیاہ تھی
شمس الرحمان فاروقی کا یہ نایاب ناول اٹھارہویں صدی کے راجپوتانے سے شروع ہوکر دہلی کے لال قلعہ میں ختم ہوجاتا ہے۔ جو تقریباً ایک صدی سے کچھ زائد عرصہ پر محیط ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے ہند کے اسلامی تمدن، انسانی تہذیب وادبی معاشرہ، انگریزوں کی سیاسی چپقلش، اس دور کی بدلتی ہوئی زوال پذیر تہذیب اور تاریخی پیکر کو اس ناول کا موضوع بنایا ہے۔ فاروقی نے اس ناول میں مغلیہ سلطنت کا زوال، اردو فارسی شاعری کی صورت حال، زندگی کی جذباتی وروحانی تکمیل کی تلاش، قومی یکجہتی، عشق ومحبت، فن کی تلاش، حالات کی تلخی اور بادشاہت کا خاتمہ وغیرہ کی زبردست عکاسی کی ہے نیز ہندوستانیوں کی بے بسی، انگریزوں کا ظلم وستم، حکومت وقت کے خلاف بغاوتی تیور، اپنی اناکے مجروح ہونے کا احساس اور نوآبادیاتی نظام کے منفی اثرات پر بھی مفصل روشنی ڈالی ہے۔
ناول کی کہانی کشن گڑھ کے زمیندار مہار اول گجندر پتی سنگھ کی بیٹی من موہنی کی متنازعہ تصویر سے شروع ہوتی ہے۔ مرقع نگار مخصوص اللہ اس تنازع سے اپنے وطن کو خیرآباد کہہ کر کشمیر جابسے اور وہیں پر ایک کشمیری خاتون سے شادی کرکے گزر بسر کرنے لگے۔ ایک بیٹا پیدا ہوا۔ اس کا نام یحییٰ بڈگامی رکھا۔ یحییٰ کے دو بیٹے داؤد اور یعقوب پیدا ہوئے۔ دونوں بیٹے فوجی تھے۔ مرہٹہ فوج اور انگریزوں کے مابین ہونے والی معرکہ آرائی میں شہید ہوگئے۔ اس شہادت سے قبل یعقوب کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوچکا تھا۔ جس کا نام یوسف تھا۔ اس حالت یتیمی میں یوسف کا سہارا اکبر بائی نامی ایک طوائف بنی جو اسے اپنے ساتھ دہلی لے کر آئی اور اپنی بیٹی اصغری سے نکاح کردیا۔ اس ازدواجی زندگی میں اللہ نے یوسف کو تین بیٹیوں سے نوازا۔ جن کا نام انوری خانم، عمدہ خانم اور وزیر خانم تھا۔’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ کا مرکزی کردار وزیر خانم ہے جو حسن وادا کی پیکر تھی۔ مزاجی نفاست، نازونخرا، ذوق وشوق اور حسن گفتار نے اس کی شخصیت کو اور پرکشش بنادیا تھا۔ وزیر کی زندگی میں یکے بعد دیگرے پانچ مرد آئے۔ پہلا مرد مارسٹن بلیک تھا۔ وہ جے پور میں کپتان کے عہدے پر فائز تھا۔ محمد یوسف سے اس کے گہرے مراسم تھے جس سے گھر پر برابر آنا جانا رہتا تھا۔ یوسف سے گفت وشنید کے بعد وہ وزیر خانم کو جے پورلے کر چلا گیا۔ جہاں دو بچوں کی پیدائش کے بعد وزیر سے نکاح کی تیاری کررہا تھا کہ ایک حادثہ میں اس کا انتقال ہوگیا۔ بلیک کی بہن نے دونوں بچوں کو اپنی کسٹڈی میں لے لیا۔ اب وزیر کی زندگی بڑے اہم اور نازک موڑپر آکر کھڑی ہو جاتی ہے، غم والم اور افسردگی کی چادر میں لپٹی وزیر خانم دہلی کا رخ کرتی ہے۔
دہلی آکر ایک اور انگریز افسر ولیم فریزر سے اس کی ملاقات ہوتی ہے۔ یہ ایک ظالم اور عیاش قسم کا افسر تھا۔ اس کا کردار ناول میں ایک ویلن جیسا ہے، جس کا نواب شمس الدین سے جھگڑے کے بعد قتل ہوجاتا ہے۔ نواب صاحب وزیر خانم سے بہت محبت کرتے تھے۔ ان کے حسن ادا پر اس قدر فدا تھے کہ پھانسی پر لٹکنا منظور کرلیا لیکن پیچھے نہ ہٹے۔ یہ کردار ناول کی فضا میں موت کے بعد بھی اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے۔ نواب شمس الدین کے انتقال کے بعد وزیر خانم رامپور چلی گئیں جہاں باقاعدہ پہلی بار نواب آغا تراب علی کے نکاح میں آئیں۔ لیکن جب بدقسمتی سا یہ کی طرح پیچھاکر رہی ہو تو وہاں انسان بے بس اور لاچار نظر آتا ہے۔ نواب آغا تراب علی بھی ایک سفر کے دوران ٹھگوں کے ہاتھوں جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔ نواب کے انتقال کے بعد وہ ایک بار پھر دہلی کا رخ کرتی ہیں اور یہاں پر اس بار ان کے حسن وادا کے دیوانے مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو ہوجاتے ہیں۔ وزیر ان کے نکاح میں آجاتی ہیں۔ لیکن قلعہ معلّی بھی راس نہ آیا۔ زینت محل نے اقتدار کے ہوس میں مرزا فخروکو زہر دلوادیا۔ ابھی وزیر کے بطن سے مرزا فخرو کا ایک بیٹا پیدا ہوا ہی تھا کہ زینت محل نے اس کی قلعہ بدری کا حکم صادر فرما دیا۔ وہ وزیر جو بڑے اعتماد سے مردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی عادی تھی آج پالکی کے بھاری پردوں کے پیچھے چادر میں لپٹی، سرجھکائے بیٹھی، بے بسی میں مبتلا، قلعہ معلّی سے بھی رخصت ہوگئی۔
نواب شمس الدین کے انتقال کے بعد وزیر خانم کے بطن سے جو لڑکا پیدا ہوا اس نے بعد میں داغ دہلوی کے نام سے شہرت پائی۔ داغ کے یہاں شعروشاعری اور اشعار کہنے کا ذوق انھیں اپنی ماں سے وراثت میں ملا تھا۔ داغ کی رسائی قلعہ معلّی میں اس وقت ہی ہوگئی تھی جب وزیر خانم نے اپنی شادی بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے کرلی، یہاں پر داغ کو غالب اور ذوق کی شاگردی کا موقع نصیب ہوا۔ قلعہ معلّی کے مشاعروں اور ادبی نشستوں میں غالب اور ذوق کے علاوہ خود بہادر شاہ ظفر اور دیگر شعراء میں حکیم احسن اللہ خاں، گھنشیام لال عاصی، امام بخش صہبانی، ظہیر دہلوی، مرزا فخرو، نواب یوسف علی خاں جیسی شخصیتیں اپنا جلوہ بکھیرتی تھیں۔ اس طرح کے تمام کرداروں سے فاروقی نے اس ناول کو خوب سجایا ہے اور اس وقت کی ادبی سرگرمیوں کی تصویر کشی، فریزر کے مسکن پر غالب کی شاعری، دہلی کے قہوہ خانوں میں شعر گوئی کی محفلیں، غالب وداغ کی ملاقاتوں کا ذکر اور داغ کی شعر خوانیاں اس زمانے کی ادبی زندگی کی بولتی ہوئی تصویریں ہیں جس کا مکمل ومؤثر اظہار اس ناول میں فاروقی نے کیاہے۔
کردار نگاری کی اگر بات کی جائے تو شمس الرحمان فاروقی نے اس میدان میں بھی اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ ناول کے اندر کسی طرح کا کہیں پر بھی جھول نظر نہیں آتا۔ تمام کردار جامع، متحرک اور بہترین صفات سے مزین ہیں۔ کرداروں کو دلچسپ بنانے کے لئے گرما گرم اور پھڑکتے ہوئے فقرے اور محاوروں کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ تمام کرداروں کو دلکش اور پرلطف بنائے رکھنے کے لئے مرقع نگاری کا بھی خوب سہارا لیا ہے۔ مرقع نگاری اس طور سے کی ہے کہ ناول کا خاص اور اہم حصہ نظر آتا ہے۔ منظر نگاری کا خوبصورت فن بھی فاروقی کے یہاں خوب ملتا ہے، دو حصوں کا بیان، قدیم خانقاہی نظام، موسیقی کے سات سراور رنگوں کی تفصیل، دہلی کے گلی کوچوں کی چہل پہل، چائے خانوں کی رونق، نوابوں کی حویلیاں، امراء و روؤسا کے بلند وبالا محلّات، قلعہ معلّی کی فصیلیں اور اس کے اندرونی خدوخال، سیروتفریح کے واقعات اور سفر کی دشواریوں کا بیان اور منظر نگاری اس طرح سے کی ہے کہ ساری چیزیں قاری کے سامنے متحرک نظر آتی ہیں۔
واقعات نگاری میں بھی فاروقی کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ناول کے سارے واقعات موتیوں کی طرح تخلیقی دھاگے میں پرودیئے ہیں خصوصاً مخصوص اللہ آرٹسٹ سے لے کر وزیر خانم کے والد یوسف تک کے تمام واقعات میں ان کا تخلیقی فن پورے شباب پر ہے۔ جزئیات نگاری کا فن بھی آپ کے یہاں خوب پایا جاتا ہے۔ عمارتوں کی تعمیر وتزئین، نقش نگاری، زیبائش وآرائش، روشنی کا انتظام، شاہی سواریاں، لباس، آلات موسیقی اور خوردنی اشیاء کا بیان اس انداز سے کیا ہے کہ اس دور کی مکمل تصویر نظروں کے سامنے رقص کرنے لگتی ہے۔ ناول کا پلاٹ بالکل فطری انداز میں اور پوری طرح گٹھا ہوا ہے۔ تمام واقعات کا ایک دوسرے سے ایسا ربط ضبط ہے کہ کوئی بھی امر بعید ازقیاس نہیں معلوم ہوتا۔ ناول کو اتنے سیدھے سادھے پیرائے میں بیان کیا ہے جیسے فنکار نے اپنے فن کے جادو سے سب کچھ نکھار دیا ہو۔
کسی بھی ناول کی کامیابی کی ضمانت موضوع، کردار، پلاٹ، واقعات، جزئیات اور منظر نگاری پر ہی صرف منحصر نہیں ہوتی بلکہ حسن بیان اور طرز نگارش بھی شایان شان ہونا چاہئے۔ اس ناول میں زبان وبیان کا حسن، مکالمہ کی برجستگی، واقعات اور زبان کے ہم آہنگ ہونے کا گہرا احساس ہر صفحے پر نمایاں ہے۔ فاروقی نے زبان و بیان پر کافی توجہ صرف کی ہے۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں مستعمل زبان کو ہی ناول میں جگہ دی ہے جو اس عہد میں رائج تھیں۔ انھوں نے خاص طور سے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ بیانیہ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہ آنے پائے جو اس دور میں مستعمل نہ تھا۔ عربی اور فارسی کے فقروں ومحاوروں کی کثرت اس ناول میں دکھائی دیتی ہے جو اس وقت دہلی ونواح دہلی میں مستعمل تھے۔ فارسی اشعار کا مکالموں میں برمحل استعمال بھی حسن بیان کو مزید دلکشی عطا کرتا ہے۔ انہی خوبیوں کی وجہ سے قاری ناول کے مطالعے کے وقت کچھ زیادہ ہی لطف اندوز ہوتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ اس کا تعلق اکیسویں صدی سے ہے۔
غرضیکہ ’’کئی چاند تھے سرآسمان‘‘تاریخ، تہذیب وتمدن، شعروادب، معاشرت کے آداب، عام زندگی کی جزئیات کے سچے اور زندہ بیان کی وجہ سے اردو ادب میں صرف اپنا ایک منفرد اور نمایاں مقام بنانے میں ہی کامیاب نہیں ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صدی سے کچھ زیادہ کی تہذیبی دستاویز بھی ہے۔

وہبہ زحیلی اور فقہ اسلامی کی تجدید

سولہویں صدی کے صنعتی انقلاب کے بعد ، جو بعد میں علمی ، فکری اور تہذیبی انقلابات کا پیش خیمہ بنا، تاریخ انسانی میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ۔ حیات انسانی نے صدیوں کے تسلسل کے بعد ایک بڑی کروٹ لی۔ تیز رفتار ٹیکنالوجی کی ترقی نے انسانی طرز زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا ۔ علوم و فنون کو نئی زندگی ملی ۔ فلسفہ کو دو بارہ ایک نئی مسند نصیب ہوئی ۔ عقل انسانی جمود و غفلت کی لمبی نیند سے بیدار ہوئی ۔ اس ہمہ گیر ترقی اور انقلاب نے زندگی کے تمام شعبوں پر اپنی چھاپ چھوڑی ۔اب زندگی کے مسائل تبدیل ہو گئے ، حالات کا رخ ماضی سے بالکل جدا ہو گیا ۔ انسانی ضرورتیں نئے لباس میں نمودار ہونے لگیں ۔ تہذیب و ثقافت میں نئے رنگ اور نئے ڈھنگ غالب ہونے لگے ۔ ایسے میں اسلام اور فقہ اسلامی کو کئی مسائل اور چیلنجز کا سامان کرنا پڑا ۔ایک طرف روز افزوں نئے سماجی ، معاشی، تہذیبی اور تعلیمی مسائل اور جدیدحالات میں صحیح اسلامی رہنمائی حاصل کرنا جن کا وجود ماضی میں سرے سے تھا ہی نہیں، چنانچہ ان کی رہنمائی کے لئے موجودہ فقہ ناکافی ٹھہری ۔ دوسری طرف فقہ اسلامی میں کئی چیزیں موجودہ دور اور حالات میں ناقابل عمل اور غیر حقیقی لگنے لگیں، کچھ میں عملی نفاذ کے پہلو سے سوالات اٹھائے گئے، کچھ عقل انسانی کے خلاف یا اس کے لئے نا قابل قبول ٹھہریں ، چنا نچہ اس درمیان میں ایک عرصہ ایسا گزرا جس میں یہ مانا جانے لگا کہ دور جدید اور فقہ اسلامی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، اور اب یا تو مسلمانوں کو فقہ اسلامی کو اختیار کرنا ہوگا یا جدید حالات کو۔ جس کی بڑی مثال یورپ کے مسلمانوں کے لئے اسلام کو ناقابل عمل ٹھہرا کر ان کو واپس مشرق کی طرف آنے کی دعوت تھی، بالآخر فقہ اسلامی پر نظر ثانی یا تدوین جدید کی آوازیں اٹھیں ، جس کے نتیجے میں دو رجحان ابھر کر سامنے آئے ۔ ایک طرف حقائق سے قطع نظر ماضی کی بے انتہا محبت ، روایت پرستی اور جمود کا غلبہ تھا ، جس نے کسی بھی صورت میں موجود ہ فقہ پر نظر ثانی کرنا گوارا نہیں کیا ۔ دوسری طرف فقہ کو جدید دور کے موافق بنانے کی اس قدر لگن اور کوشش کہ ہر قدیم چیز دائرہ شک میں نظر آنے لگی اور ہر نئی چیز محبوب لگنے لگی ۔چنانچہ فقہ اسلامی یا علوم اسلامی میں زمانی طور سے قدیم وجدیدکی، دو بڑی تقسیم وجود میں آئیں۔ اب ہر میدان میں قدیم و جدید کا فرق نظر آنے لگا اور دونوں کے درمیان دوریاں بڑھتی گئیں ۔ ایسے میں ضرورت ہوئی ایسے لوگوں کی جو ماضی کے ٹھوس اصولوں اور مسلمات کی تو پاسداری کریں اور ساتھ ہی ان چیزوں پر جو حالات یا رسم و رواج کے راستے فقہ اسلامی کا حصہ سمجھی جانے لگیں یا جن کی حیثیت اصولوں پر قیاس کی یا انسانی رائے کی ہے ان پر نظر ثانی کریں اور قدیم و جدید کے درمیان صحیح اور متوازن رہنمائی پیش کریں ۔ بیسویں صدی میں کئی بڑے علماء واسکالرس نے اس طرف توجہ دی اور اپنی غیر معمولی خدمات پیش کیں۔ ان میں ڈاکٹر وہبہ زحیلی اس لحاظ سے خاص اہمیت کے حامل ہیں کہ ان کا کام اور میدان اس قدر وسیع اور پھیلا ہوا ہے کہ وہ ایک شخص نہیں بلکہ ایک اکیڈمی ، ایک عالم نہیں بلکہ ایک لائبریری، اور ایک محقق نہیں بلکہ قدیم و جدید فقہ و علوم اسلامی کا ایک انسائیکلو پیڈیا نظر آتے ہیں ۔ یقیناًوہ قدیم و جدید کے ایک خوبصورت سنگم ہیں۔
ڈاکٹر وہبہ زحیلی دمشق شام میں ۱۹۳۲ء میں ایک دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی اور دمشق میں الکلیۃ الشرعیۃ سے شرعی علوم میں چھ سال کا ثانویہ کیا،اور وقت کے بڑے اور مشہور علماء سے حصول علم کا شرف حاصل کیا، جن میں علامہ مصطفی زرقاء ، ڈاکٹر مصطفی سباعی ، محمود رنکوسی ، لطفی الفیومی ، صالح فرفوراور حسن حبنکہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ بعد ازاں مزید تعلیم کے لئے ازہر یونیورسٹی مصر تشریف لے آئے ، یہاں آپ نے پہلی پوزیشن کے ساتھ کلیۃ الشریعۃ سے عالیۃ کی ڈگری حاصل کی اور پھر کلیۃ اللغۃ العربیۃ سے تخصص فی التدریس کیا، ہر مرحلے میں پہلی پوزیشن آپ کا امتیاز رہی ۔ یہاں بھی آپ کو بڑے بڑے نامور اساتذۂ علم و فن اور ماہرین علماء کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے کا موقعہ ملا ، شیخ الازہر محمود شلتوت ، شیخ ابو زہرہ ،، عثمان المزارقی ،محمد البنا اور محمد الزفزاف کے نام خاص اہمیت کے حامل ہیں، جن میں محمود شلتوت کے افکار سے آپ کافی متأثر ہوئے ۔
علم کی تشنگی مزید بڑھ جانے اور قانون کی طرف ذہنی میلان کی وجہ سے آپ نے لاء فیکلٹی عین شمس یونیورسٹی سےLLB اور قاہرہ یونیورسٹی کی لاء فیکلٹی سے ممتاز نمبرات سے اسلامی شریعت میں PG Diplomaکی ڈگری حاصل کی اور پھر اسی فیکلٹی سے اسلامی شریعت میں آپ نے پی ایچ ڈی کی۔ پی ایچ ڈی کی لجنۃ المناقشۃ نے آپ کے مقالے کو غیرملکی یونیورسٹیز کے ساتھ شیئر کرنے کی سفارش کی تھی۔ آپ کا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان’’ آثار الحرب فی الاسلام :مقارنۃ بین المذاہب الثمانیۃ و القانون الدولی‘‘ دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا اور بڑے بڑے علماء و مفکرین نے اسے خراج تحسین پیش کیا ۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب سند کی حیثیت سے جانی جانے لگی، اس میں جنگ و صلح سے متعلق قدیم و جدید تمام افکار کا گہرائی کے ساتھ تقابلی مطالعہ اور معروضی جائزہ لیا گیا ہے، ساتھ ہی رائج عالمی قانون اور اسلامی قانون کے درمیان جو غیر معمولی فر ق ہے وہ بھی واضح کیا گیا ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے اسے اپنے موضوع پر بے مثال کتاب قرار دیا ہے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ’’ ڈاکٹر وہبہ زحیلی نے آثار الحرب فی الاسلام میں ہمارے وسیع فقہی لٹریچر میں سے لا جواب انتخاب پیش کیا ہے اور ان چیزوں کو اس موضوع سے الگ کردیا ہے جس کی ضرورت دراصل اب دنیا کو ہے ہی نہیں اور ساتھ ہی ضرورت کی چیزوں کو خوبصورتی کے ساتھ پیش کردیا گیا ہے ، ہم نے اپنی کتاب فقہ الجھاد میں اس کتاب کا کافی حوالہ دیا ہے اور اس کے اقتباسات پیش کئے ہیں ‘‘۔یہ مقالہ در حقیقت آپ کے علمی و تحقیقی سفر کی ابتداء تھی جس نے بلندی کے کئی منازل طے کئے اور کر تے چلے گئے ۔
آپ کے عملی و تدریسی دور کی ابتداء ۱۹۶۳ میں ہوئی جب آپ کو دمشق یونیورسٹی میں لکچرر شپ کے لئے منتخب کیا گیا ۔جہاں آپ نے علم و فضل کی خوب بارش کی اور پروفیسر کی حیثیت سے وہاں خدمات انجام دیتے رہے، البتہ آپ کی خدمات شام تک محدود نہ رہ کر پورے عالم اسلام کے لئے عام رہیں ۔ چنانچہ لیبیا، تیونس ، امارات ، سعودی عرب، پاکستان اور کویت تک آپ کے لکچرس اور دروس وقتا فوقتا ہوتے رہے ۔ دمشق یونیورسٹی کے علاوہ لیبیا کی محمد بن علی السنوسی یونیورسٹی، امارات کی جامعۃ الامارات ، سوڈان کی خرطوم یونیورسٹی ، ام درمان یونیورسٹی میں آپ باقاعدہ وزٹنگ لکچرر کے طور پر خدمات پیش کرتے رہے۔اس کے علاوہ عالم اسلام کے بڑے اور اہم علمی کاموں میں اپنا اہم کردار بھی ادا کرتے رہے۔ چنانچہ کہیں نصاب کمیٹی کی کار روائی میں بھر پور حصہ لیا اور کہیں انسائیکلوپیڈیا کی تیاری اور قانون سازی کے عمل میں اپنی گراں قدر خدمات پیش کیں۔ بیسویں صدی کے آخر تک آپ کا مقام کچھ یوں ہو گیا کہ کوئی فقہی مجلس یا بحث آپ کی شرکت کے بغیر ناقص اور تشنہ لگنے لگی ۔چنانچہ عالم اسلام کی بے شمار اکیڈمیز اور سینٹرس کے آپ ممبر بنائے گئے خصوصا اکمجمع الفقہی مکۃ المکرمۃ ،مجمع الفقہ الاسلامی جدۃ،مجمع فقہاء الشریعۃ امریکہ ، فقہ اکیڈمی سوڈان ، اسلامی فقہ اکیڈمی انڈیا کے علاوہ بحرین ، کویت ، اردن، لندن، دمشق ، شام کی مختلف اکیڈمیز اور سینٹر س کے فعال اور اہم ممبر رہے اور کئی جگہ صدارت کے فرائض بھی بحسن و خوبی انجام دیئے ۔
آپ کا تعارف کسی ایک مخصوص میدان یا تخصص سے جوڑ کر کرپانا مشکل بلکہ انصاف کے منافی ہے ۔ البتہ لوگوں نے آپ کی شخصیت کے تین پہلوؤں کو غیر معمولی اور نمایاں قرار دیا ہے ۔چنانچہ آپ کی شخصیت کا ایک پہلو فقہ میں غیر معمولی مہارت ہے ۔ دوسرا اہم پہلو اصول فقہ پر غیر معمولی دسترس اور مہارت ہے، اور تیسراپہلو ایک مفسر قرآن کا ہے ۔البتہ آپ کی شخصیت کی جوہری خصوصیت ایک مفکر اور محقق کی ہے۔ دینی و عصری علوم میں گہری واقفیت اور اچھی دسترس رکھتے تھے۔آپ کی تصانیف کی تعداد تین سو سے اوپر ہے، اور ہر کتاب عرق ریزی اور جانفشانی کی منہ بولتی تصویر ہے۔
ڈاکٹر وہبہ زحیلی فقہ کے ایک زندہ اور جامع تصور کے حامل لوگوں میں سے تھے ، آپ نے فقہ کی رائج تعریف یعنی احکام شرعیہ عملیہ کے مجموعے کا نام فقہ ہے کے بالمقابل فقہ کی ایک وسیع اور جامع تعریف پیش کی ، الفقہ معرفۃ النفس ما لھا و ما علیھا۔ چنانچہ فقہ بعض محدود احکام و مسائل کے برخلاف زندگی کے ہر پہلو سے متعلق صحیح رہنمائی حاصل کرنے کا نام ہو گیا ۔فقہ اسلامی میں آپ کا کام کافی وسیع اور اہم ہے ۔ آپ دراصل فقہ کے باب میں تقلیدی اصلاحی نظریے کے ماننے والوں میں سمجھے جاتے ہیں جس کی داغ بیل امام محمد عبدہ کے اہم شاگردوں علامہ مصطفی المراغی اور مصطفی عبدالرزاق نے رکھی تھی ۔آپ کی فقہی اپروچ بہت ٹھوس اور ڈائنامک تھی۔ فقہ پر آپ کی متعدد کتابیں ہیں اور بعض کتابیں مختلف جگہوں پر نصاب کا حصہ بن چکی ہیں ۔ ’’الوجیز فی الفقہ الاسلامی‘‘ اور’’ موسوعۃ الفقہ الاسلامی والقضایا المعاصرۃ‘‘ چودہ جلدوں میں فقہ پر جامع کتابیں مانی جاتی ہیں ۔فقہ کی تجدید کے متعلق آپ کے نزدیک شریعت کے کچھ ثوابت اور مسلمات ہیں جن کی حیثیت فریم ورک کی ہے، ان کی روشنی میں پوری فقہ کو کھنگالا جا سکتا ہے، حالات کے مطابق اس پر غور کیا جا سکتا ہے ، مقاصد شریعت کی روشنی میں ان کا جائزہ لیا جا سکتا ہے اور نئے مسائل اور حالات کے حل تلاش کئے جا سکتے ہیں ۔ چنانچہ فقہ اسلامی کے زندہ تصور اور تجدیدی کردار کی بحالی کے لئے آپ نے کئی کتابیں لکھیں جس میں ’’الفقہ الاسلامی فی اسلوبہ الجدید‘‘ خاص طور پر اہم ہے ۔ آپ کی ایک اہم تصنیف تجدید الفقہ الاسلامی بھی ہے جو دراصل فقہ المقاصد کے مشہور اسکالر جمال عطیۃ کے ساتھ آپ کے مراسلات اور تبادلہ خیالات کا مجموعہ ہے جو بہت ہی اہم اور بنیادی موضوعات پر مشتمل ہیں ۔ جس میں تجدید کے حدود ، اس کا منہج ، اس کا دائرہ اور اس کا اختیار، ان تمام چیزوں پر باریکی کے ساتھ گفتگوکی گئی ہے۔
آپ کی زندگی کا سب سے اہم کام الفقہ الاسلامی و ادلتہ نامی کتابی سلسلہ ہے جو گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔ یہ در اصل فقہ مقارن پر ایک انوکھا اور منفرد کام ہے ۔ انفرادی طور پر فقہ مقارن کے میدان میں کی جانے والی قدیم و جدید تاریخ میں یہ سب سے بڑی پیشکش، عظیم کارنامہ اور جامع ذخیرہ ہے ، اور اپنے مشمولات کے اعتبار سے یہ الموسوعۃ الفقہیۃ کویت کے بعد جو ایک پوری اکیڈمی کی محنتوں کا ثمر ہے ،فقہ مقارن کا دوسرا سب سے بڑا علمی ذخیرہ مانا جاتا ہے۔ اس میں موضوعات اور مضامین کی جامعیت کے ساتھ ساتھ مسالک اور ائمہ کا بھی زبردست انداز سے احاطہ کیا گیا ہے ۔ مسالک اربعہ کے علاوہ چار دوسرے بڑے مسالک جعفریہ ، زیدیہ ، اباضیہ اور ظاہریہ اور بڑے ائمہ کی آراء کو سامنے رکھتے ہوئے تقابلی مطالعہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ ساتھ ہی غیر ضروری اور از کار رفتہ موضوعات سے پہلو تہی بھی کی گئی ہے ۔اس کا اہم پیغام یا محرک یہ ہے کہ فقہ در اصل آسانی کا نام ہے چنانچہ اگر کوئی تمام فقہ میں سے دلائل کے ساتھ آسان احکام تلاش کر کے لوگوں کے لئے آسانی فراہم کرنا چاہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ تقلید پر باقی رہتے ہوئے بھی ہم دوسری فقہوں یا مسلکوں سے استفادہ کر سکتے ہیں، البتہ مکمل تقلید سے یا فقہ سے یا ائمہ کی کوششوں سے بد ظن یا متنفر ہو جانا زیادہ خطرناک اور سنگین مسئلہ ہے ۔ اس مسئلے کو اور واضح کرنے کے لئے آپ نے الگ سے ایک تفصیلی کتاب بعنوان ’’الضوابط الشرعیۃ للاخذ بالیسر‘‘ تحریر فرمائی ۔’’الفقہ الاسلامی و ادلتہ‘‘ کی اہمیت و افادیت کو دیکھتے ہوئے کئی اسلامی یونیورسٹیز نے اسے داخل نصاب کیا اور مراجع کی حیثیت دی ہے۔ اسلامی یونیورسٹی پاکستان اور سوڈان میں یہ باقاعدہ نصاب کا حصہ ہے،بلکہ فقہ مقارن میں مرجع کی حیثیت سے ہر اسلامی یونیورسٹی کی لائبریری کی زینت ہے ۔ طفیل ہاشمی، پاکستان کے قلم سے اس کا اردو ترجمہ بھی منظرعام پر آچکا ہے۔
اصول فقہ کو علماء نے علوم شرعیۃ میں سب سے اہم مقام دیا ہے بلکہ یہ علم ہی در اصل احکامات اور اس کے اصولوں کے درمیان کا راستہ ہے ۔ نصوص سے کسی مسئلہ کو تلاش کرنے کے عمل کو ہی اصول فقہ کا علم کہتے ہیں۔آپ نے بھی اس جانب پوری توجہ دی اور اصول فقہ کی معرفت کو شرعی علوم کا خلاصہ اور مغز بتایا ہے اور ساتھ ہی ان لوگوں پر سخت تنقید کی ہے جو اصول فقہ میں مہارت اور گہرائی حاصل کئے بغیر دین کے معاملات میں اپنی رائے دینا شروع کردیتے ہیں ۔ اصول فقہ کی باقاعدہ فنی طور پر ابتداء امام شافعی کی کتاب الرسالۃ سے مانی جاتی ہے گویا اصول فقہ کی پہلی با ضابطہ بنیاد امام شافعی نے رکھی اور اس کے بعد ایک لمبے زمانے تک علماء و فقہاء ایک رائج اور تقلیدی راستے پر سفر کرتے رہے، یہاں تک کہ علامہ شاطبی نے اس میدان میں قدم رکھا اور اصول فقہ کو نئی بلندیوں اور منزلوں سے روشناس کرایا۔ نئے گوشوں کو بے نقاب کیا، اصول فقہ میں کچھ نئی بحثیں اٹھائیں اور کچھ پرانی بحثوں کو نئے پیرائے میں پیش کیا ۔مقاصد کو ایک خاص اہمیت کے ساتھ پیش کیا اوراصول فقہ کو آسان مگر بہت جامع اور مفید رنگ میں تازہ کیا ۔ نیز نئے اور جدید مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اصول فقہ کومزید معروضی اور نتیجہ خیز بنایا۔ڈاکٹر وہبہ زحیلی کا کام اس میدان میں بھی مجمع البحرین اور پل کا ہے ۔آپ نے اس موضوع پر ایک بہترین انسائیکلوپیڈیا بعنوان ’’اصول الفقہ الاسلامی‘‘ تیار کیا جس کے مقدمے میں آپ نے یہ وضاحت فرمائی کہ یہ کتاب در اصل امام شاطبی اور طریقہ تقلیدیہ کے درمیان ایک نئے طرز کی کو شش ہے جس میں امام شاطبی سے تاثر ضرور ظاہر ہوگا، مگر تقلیدی اصول فقہ سے بھی پورا پورا استفادہ کیا جائے گا۔ آپ کا یہ کام کافی دقیق اور علمی کام شمار کیا جاتا ہے، یہ قدیم و جدید کو جمع کرنے کی ایک قابل قدر کوشش ہے۔ آپ کی اس مایہ ناز کتاب ’’اصول الفقہ الاسلامی‘‘ کو بھی کئی عرب یونیورسٹیز میں نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے ۔ جامعہ اسلامیۃ مدینہ اور جامعہ الامام ریاض میں یہ کتاب باقاعدہ دراسات علیا کے نصاب کا حصہ ہے ۔ ہندوستان کے کئی اداروں میں بھی اسے داخل نصاب یا مرجع کی حیثیت سے قبول کیا گیا ہے۔
تفسیر میں آپ کا کام کافی وسیع ، جامع اور منفرد انداز کا ہے ۔اس طور سے کہ آپ نے تین مختلف تفسیریں مختلف نہج اور الگ الگ اسلوب میں لکھی ہیں ۔ آپ کی کوشش یہ تھی کہ مخاطبین کے فرق مراتب اور ذہنی و فکری تفاوت کے پیش نظر الگ الگ کام کیا جائے اور لوگوں کو ان کے معیار اور سطح کے مطابق قرآن سے جوڑا اور وابستہ کیا جائے۔آپ نے تفسیر میں بھی قدیم و جدید اور مختلف تفسیری مکاتب فکر کو جمع کر کے ایک جامع اور نفع بخش تفسیر لکھنے کی کوشش کی ہے اور بڑی حد تک اب تک موجود وسیع اور بکھرے ہوئے تفسیری ذخیرے اور تراث سے اس طور سے بے نیاز کردیا ہے کہ اب تک کا تفسیری کام آپ کی تفاسیر میں جمع ہو گیا ہے۔ اس کے بعد اب اصل کام اس غور و فکر کے عمل کو مزید آگے لے جانا ہے چنانچہ آپ اپنی بلند پایہ تفسیر ’’التفسیر المنیر‘‘ کے مقدمے میں تحریر فرماتے ہیں کہ میرا کام در اصل لوگوں کو قرآن سے قریب کر دینا اور ان کے سامنے ایک نمونہ پیش کر دینا ہے تاکہ ہر شخص براہ راست قرآن سے وابستہ ہو اور اس کو سمجھے اور بقدر ظرف اپنا حصہ تلاش کرے ، کیونکہ اصل تفسیر تو وہی ہے جو ہر شخص قرآن سے براہ راست تعلق قائم کر نے کے نتیجے میں خود اپنے دل میں محسوس کرے۔
آپ کی سب سے ضخیم اور بلند پایہ تفسیر ’’التفسیر المنیر‘‘ ہے جو سولہ جلدوں پر مشتمل ہے ۔اس میں آپ نے تفسیر سے متعلق تمام قدیم و جدیداہم بحثوں کو تفصیل اور گہرائی کے ساتھ اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ آپ کی سب سے بلند معیار اور تفصیلی تفسیر ہے ۔ آپ کی دوسری تفسیر ’’التفسیر الوجیز‘‘ ہے جو آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے اور یہ متوسط درجے کے لوگوں کے لئے مرتب کی گئی ہے، بلکہ یہ آپ کے وہ دروس ہیں جو تسلسل کے ساتھ آپ سے ٹی وی چینل پر نشر کرائے گئے تھے اور بعد میں نظر ثانی اور اہتمام کے ساتھ کتابی شکل میں منظر عام پر لائے گئے۔ مبتدی طلبہ اور قارئین کے لئے آپ نے ایک الگ تفسیر ’’التفسیر الوسیط‘‘ کے نام سے تیار فرمائی جو تین جلدوں پر مشتمل ہے۔
اس کے علاوہ جن موضوعات پر آپ کی قابل ذکر اور لائق استفادہ تصانیف منظر عام پر آئیں ہیں ان میں حدیث ،قانون ، اسلامی معاشیات ،اسلامی بینک کاری،اسلامی سیاست،حقوق انسانی اور اسلامی اخلاقیات پر آپ کی کتابیں اہم ہیں ۔
آپ فکر اسلامی کی ضروری تجدید کے بھی مکمل حامی رہے،چنانچہ بہت سے مفاہیم کی نظر ثانی میں آپ نے خود حصہ لیا اور مجموعی طور پر جوہر اور اصول کو باقی رکھتے ہوئے اس پر نظر ثانی کے قائل رہے ۔ آپ نے اپنی کتاب ’’الاسلام دین الشوری و الدیموقراطیۃ‘‘ میں جمہوریت پر شاندار اور متوازن بحث کی ہے اور کہا ہے کہ جمہوریت در اصل اسلامی سیاست کی روح ہے، اگر اس سے حاکمیت مخلوق کو جدا کردیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ مزید یہ بھی کہا کہ آج جمہوریت میں بہت سے ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں جو اسلامی روح یا شریعت سے متضاد نہیں ہوتے، ان کو قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔مساوات مرد وزن اور انسانی حقوق وغیرہ پر بھی آپ کا کام جدید فکر اسلامی کے خد و خال سمجھنے اور طے کرنے میں کافی معاون اور مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔’’الاسرۃ المسلمۃ فی العالم المعاصر‘‘ اور ’’حقوق الانسان فی الاسلام‘‘ اس تعلق سے اہم کتابیں کہی جا سکتی ہیں۔
آپ کو تحریکات اسلامی اور اسلام کے غلبہ کے لئے ہونے والی ہر حقیقت پسند اور پرامن جد و جہد اور کوشش سے بے انتہا لگاؤ اور محبت تھی ۔ البتہ آپ کا ذاتی فیصلہ یہ تھا کہ اپنے آپ کو علم و تحقیق کے میدان کے لئے خاص کر کے ہر ایک کو نفع اور فائدہ پہنچائیں اور فیض عام کریں، چنانچہ آپ نے مناسب سمجھا کہ کسی جماعت یا تحریک سے وابستہ ہوئے بغیر کام کیا جائے ، مگر وہ تحریک اخوان المسلمون کو پسند کرتے تھے اور شام میں اخوان کی مدد اور تائید کرتے تھے۔ شام کی عوامی بیداری اور پھر فوج اور حکومت کی خون آشام حرکتوں پر بھی آپ نے اخوان اور عوام کی خاموش تائید کی تھی ۔ آپ کی وفات پر اخوان المسلمون کی ویب سائٹ پر تعزیتی بیان آیاتھا جس میں اس طرف واضح اشارہ موجود ہے ۔ آپ تحریکات اسلامی کی کامیابی کے لئے فکر مند رہتے تھے، چنانچہ لمبے غور و فکر اور تجزیے کے بعد آپ کا ماننا تھا کہ تحریکات اسلامی کو موجودہ وقت میں کامیابی کے لئے تین پہلوؤں پر بے انتہا توجہ دینے اور کام کرنے کی ضرورت ہے اور اب تک جو سست رفتاری یا دشواریاں رہی ہیں ان کی اصل وجہ یہی تین چیزیں ہیں ۔ اولا ،اسلامی اصولوں اور ضوابط کی مکمل پاسداری۔ ثانیا ، دور حاضر کی صحیح سمجھ اور پھر مختلف میدانوں اور شعبوں میں اسلام کی صحیح اور عملی قسم کی رہنمائی۔ ثالثا ، اسلامی کاز کے لئے ہونے والی تمام کوششوں اور جماعتوں میں اتحاد و اتفاق ۔
عالمی سطح پر علماء کے کردار کو جس طرح محدود کیا گیا،اور سماج کے با اثر اور فعال اداروں اور جگہوں سے علماء کی بے دخلی اور بر طرفی کا رویہ سامنے آیا ہے، اس سلسلے میں بھی آپ کو بے انتہا فکرمندی تھی اور اس کا ذمہ دار وہ بڑی حد تک علماء و دینی اداروں کی نا اہلی کو قرار دیتے تھے۔ آپ کا ماننا تھا کہ آج جو سیاست ، معیشت اور قانون کو بالکل علماء اور شریعت سے دور اور جدا کر دیا گیا ہے اس کے ذمہ دار کسی نہ کسی حد تک علماء بھی ہیں ۔ آپ کا خواب تھا کہ علماء اس قدر علوم و معارف اور صلاحیتوں کے حامل ہو جائیں کہ زندگی اور سماج کا کوئی شعبہ ایسا نہ ہو جہاں کوئی فیصلہ یا اتفاق علماء کی شرکت کے بغیر عمل میں آئے۔ یہاں تک کہ آپ کی خواہش یہ بھی تھی کہ فوج اور جنگ کے معاملات بھی علماء کے مشوروں کے بغیر طے نہیں ہونے چاہئیں ۔
اہل علم کے درمیان علمی و فکری دنیا میں اختلاف رائے ایک قابل تحسین عمل ہے، لیکن اس کے کیا حدود ہونے چاہئیں اور کس انداز سے اختلاف ہونا چاہئے ، اور اس کو کس حد تک موثر ہونا چاہئے، اور باوجود اختلاف رائے اور نظریاتی اختلاف کے ایک دوسرے کا احترام اورمحبت اور متفقہ مسائل میں ایک دوسرے کا تعاون اور سپورٹ کس انداز سے ہونا چاہئے ، ڈاکٹر وہبہ کی شخصیت اس معاملے میں ایک نمونہ کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر یوسف القرضاوی سے متعدد جگہ ڈاکٹر وہبہ زحیلی کو علمی و فکری یا فقہی اختلاف رہا بلکہ موجودہ دور میں دو بڑے فقہی رجحان میں سے دونوں ایک ایک کے سرخیل اور امام کہے جا سکتے ہیں، یہاں تک کہ بعض اہم شرعی مسائل میں اختلاف ہونے کی وجہ سے یورپین کونسل برائے افتا وبحوث سے الگ ہوکر آپ نے مجمع فقہاء الشریعۃ بامریکا کی بنیاد رکھی۔ تاہم ۲۰۰۷ میں دوحہ میں علماء کی ایک عظیم الشان کانفرنس کے دوران یوسف قرضاوی کی بعض باتوں سے ایک ایرانی عالم بہت ناراض ہوئے اور یوسف قرضاوی کو ملامت کر نے لگے ، ایسے میں وہبہ زحیلی ان کی حمایت میں کھڑے ہوئے اور ایرانی عالم کو خاموش کر کے بیٹھا دیا۔
ڈاکٹر وہبہ زحیلی جب تک طالب علم رہے پڑھائی اور مطالعے کے دلچسپ مشغلے سے اپنے آپ کو کبھی فارغ نہیں ہونے دیا اور جب زندگی کے عملی میدان میں آئے تو محیر العقول کارنامے انجام دیے، اور یہی وہ حقیقت ہے جس کا ادراک طالب علموں کو غیر معمولی بلندیوں اور کامیابیوں سے ہمکنار کر سکتا ہے۔

غزہ اور غرورِ ستمگراں

سابق اسرائیلی صدر اسحاق رابن کی یہ تمنا تھی کہ کاش غزہ کی سرزمین کو سمندر اپنا لقمہ بنا لے۔ ایک دن اس کی آنکھ کھلے تو اسے یہ خوش خبری سنائی جائے کہ غزہ ڈوب چکا ہے۔ اب زمین کے نقشے پر غزہ نامی خطہ مٹ چکا ہے۔

اسحاق رابن یہودیوں کا مشہور جنگی جرنیل اور وزیر دفاع بھی رہ چکا تھا لیکن غزہ کے سامنے وہ بے بس تھا۔

وہ غزہ کے جانبازوں کا سر جھکانے، ان کا مقابلہ کرنے، ان کی عورتوں کی زبان بندی کرنے، بچوں کو خوف و دہشت میں مبتلا رکھنے اور ان کی آرزووں کا گلا گھونٹنے میں ناکام ثابت رہا تھا۔

غزہ نے نہ صرف رابن کے وحشیانہ خوابوں کو چکنا چور کیا تھا بلکہ اسرائیلی فوج اور اس کے کمانڈروں کے لیے بھی وہ ہمیشہ ایک للکار بن کر سامنے آیا۔

غزہ کے جانبازوں کی جرأت کے سامنے اسرائیلی فوج کے حوصلے ہوا کا غبارہ ثابت ہوئے۔ جب تک اسرائیلی فوج غزہ میں رہی موت اور تباہی ان کا مقدر رہی، اور ایک دن ایسا بھی آیا کہ اس خطہ سے اسرائیلی درندوں کو نکلنا پڑا۔

آج اسحاق رابن تو نہیں ہے پر اس کا خواب حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ یہ کامیابی یہودی فوج کی محنت اور اس کے کمانڈروں کی کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ خود ہماری صفوں میں موجود دشمنانِ دین و انسانیت کی وجہ سے ہے، مصر میں موجود فرعون صفت درندوں کی وجہ سے ہے۔

ان یہود نواز ہاتھوں نے غزہ کی زیر زمین سرنگوں میں سمندری پانی چھوڑ کر نہ صرف یہ کہ یہاں کے زیرِ زمین صاف پانی کے معمولی ذخیرہ کو گندہ کرکے اہالیانِ غزہ کی مصیبت میں اضافے کی کوشش کی ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی سازش ہے کہ پانی کی وجہ سے یہاں کے ریتیلے علاقوں میں زمین دھنستی جائے اور ان علاقوں میں انسانی زندگی کی بقا کا کوئی امکان باقی نہ رہے، غزہ سمندر کا لقمہ بن جائے اور پھر نہ تو اسرائیل کی نیند اڑانے والے غیوروں اور ناگ کا سر کچلنے کا حوصلہ رکھنے والے بہادروں کا وجود باقی رہے اور نہ ہی ان کے خطے کا۔

مصری حکمرانوں کی یہ کوشش صرف اور صرف اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ہے جیسا کہ حماس کے لیڈر مشیر المصری نے کہا کہ

“دشمن کے ساتھ یارانہ اور اہل غزہ کے لیے اذیتیں۔۔ ایک عرب ملک کے ہاتھوں غزہ کو ڈبونے کی کوشش اسحاق رابن کے خواب کی تکمیل کے لیے ہے”۔

کیا وقت بدل گیا ہے یا حالات بدل گئے؟

ایک وقت تھا کہ ملتِ اسلامیہ کے لوگ یہ کہتے تھے کہ آؤ مل کر اسرائیل کو سمندر میں پھینک دیں اور عالم اسلام کے ماتھے پر موجود اس داغ سے چھٹکارا حاصل کر لیں، پر آج صورتِ حال بدل چکی ہے۔اب اسرائیل کو سمندر میں پھینکنے کی باتیں تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔

اب ستمگر سے دوستی اور مظلوم غزہ کو غرقاب کرنے اور اس سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پانے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ دعوی یہ ہے کہ غزہ اب مصر کے امن و امان کے لیے خطرہ ہے جس سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔

آج غزہ کے باشندے اپنوں کی خیانت کی وجہ سے ہمہ اقسام آزمائشوں میں مبتلا ہیں۔ اسرائیل کے ظالمانہ محاصرے نے اس سرزمین کو ایک قید خانہ بنا دیا ہے۔ یہاں انسانیت سسک رہی ہے۔فقر و فاقہ اور تنگی و غربت میں مبتلا،زندگی کے ضروری اسباب سے محروم اہالیانِ غزہ کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔ بات صرف یہاں ختم نہیں ہوئی۔

تنگی کے باوجودعزم سے معمور اس آبادی کے لیے اب صرف اسرائیلی محاصرہ ہی آزمائش نہیں ہے بلکہ مصرسے جوڑنے والے رفح کے راستے سے بھی ، جو کہ اس خطے کو دنیا سے جوڑنے والا واحد بری راستہ ہے، ان کے لیے نئی نئی اذیتوں کے دروازے کھولے جارہے ہیں۔ ان ہی اذیتوں میں سے ایک ہے مصر کی طرف سے غزہ کو ڈبونے کی کوشش!

پر کیا اسحاق رابن کی تمنا پوری ہوجائے گی؟

غفلت میں ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ غزہ کو چکناچور کیا جاسکتا ہے۔ غزہ نہیں ڈوب سکتا۔ ان شاء اللہ غزہ باقی رہے گا۔

جس نے بھی غزہ کی طرف برے ارادوں سے پیش قدمی کی ہے یہاں کے غیور فرزندوں نے اسے ہزیمت کی راہ دکھائی ہے۔ یہ آزمائشیں ان کو شکست سے دوچار کرنے کے بجائے ان کے حوصلوں کو نئی زندگی عطا کریں گی۔ غزہ کے حوصلے توڑنے کا ارادہ رکھنے والے چلے گئے۔ اسحاق رابن، ایریل شارون، ازمان، ارنس، ایتان دایان ، باراک ان میں سے کوئی باقی نہ رہا۔ ان کے بعد آنے والے یعلون، موفاز، اور بینی گیٹس کو بھی اس دنیا سے جانا پڑا، پر غزہ کے حوصلے آج بھی زندہ ہیں، نئی نسل کے حوصلوں میں بھی کوئی کمی نہیں۔ یہ عزم او ر یہ حوصلہ اہالیانِ غزہ کی میراث ہیں، اس قوم کی میراث جو سب کچھ لٹا سکتی ہے پر اپنی غیرت و آزادی کا سودا نہیں کر سکتی۔

یقیناًغزہ کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔ یہاں تنگدستی اور پریشان حالی کے بے شمار مناظرسامنے آتے ہیں۔ بھوک ، محاصرہ، محرومی، قید و بند ، خونریزی، قتل ، ظلم اور آگ اور خون کا کھیل یہاں اب نیا نہیں رہا۔ یہاں انسانیت کس کرب میں مبتلا ہے اس سے دنیا واقف ہے، پر سب کے لب سلے ہوئے ہیں۔ دنیا خاموش ہے، ظالمانہ محاصرہ کو ختم کرنے کے لیے غزہ کا کوئی ہم نوا نہیں۔

غزہ جن آلام سے دو چار ہے شاید اہلِ غزہ بھی ان کا شمار نہ کر سکیں۔ ان کی یہ اذیت صرف بجلی کے بحران تک محدود نہیں۔ دنیا یہ جانتی ہے کہ غزہ میں صرف ایک پاور اسٹیشن ہے جس کے ایندھن سپلائی نظام پر یا تو اسرائیلی وحشیوں کا قبضہ ہے یا مصری فرعونوں کا۔ بجلی کی سپلائی یہاں گویا ہے ہی نہیں اور یہ صرف ایک مصیبت نہیں۔ اس نے زندگی کے تمام کاروبار کو تباہ کر دیا ہے۔ طبی سہولیات ، تجارت، معیشت، تعلیم اور صنعت ہرشعبہ بجلی کے فقدان کی وجہ سے تعطل کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کے اعلان کے مطابق غزہ دنیا کے ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں انتہائی گھنی آبادی ہے۔

ایک تخمینہ کے مطابق 2015 میں اس کی آبادی تقریبا 19؍ لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور 2025 تک یہ آبادی 25؍ لاکھ ہو جائے گی۔

اس بڑھتی ہوئی آبادی کے سماجی و معاشی مسائل کی طرف نہ تو عالم اسلام کی توجہ ہے اور نہ انسانی حقوق کا ترانہ پڑھنے والے کھلاڑیوں کی۔

اگر بے روزگاری کے پہلو سے دیکھیں تو اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، یہاں دنیا کے کسی بھی علاقے سے زیادہ بے روزگاری ہے۔

20 تا 24 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 70 فیصد سے زائد ہے جبکہ مجموعی آبادی کا 43 فیصد سے زیادہ حصہ بے روزگاری کا شکار ہے۔

حالات کے مارے یہ لوگ انتہائی معمولی تنخواہوں پر کام کرتے ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ اور خصوصی مہارت رکھنے والے افراد روزگار نہ ملنے کی وجہ سے اپنے اختصاصی میدان سے ہٹ کر دیگر میدانوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ انہیں تنخواہ پابندی سے نہیں ملتی، اگر ملتی بھی ہے تو ادھوری۔

United Nations Conference for Trade and Development کی طرف سے ایک ماہ قبل جاری رپورٹ میں واضح طور پر یہ کہا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ 2020 سے پہلے ہی غزہ کی صورتِ حال اتنی خراب ہو جائے کہ وہ انسانی رہائش کے لیے ناموزوں علاقہ قرار پائے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے مذکورہ ادارے کی رپورٹ کو بہت ہی معروضی اور معتبر سمجھا جاتا ہے۔

گزشتہ سال غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے بعد اونروا UNRWA (United Nations Relief and Work Agency for Palestine refugees) کو کئی ممالک کی طرف سے ملنے والی مالی مدد روک دی گئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اونروا نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ محدود کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کی ضروریات کی تکمیل میں ناکام ہے۔ ان کی طرف سے غزہ کے بہت سے کیمپوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کو یا تو بند کر دیا گیا یا اس کا دئرہ محدود کر دیا گیا۔

غزہ ان علاقوں میں سے ہے جہاں پینے یا سینچائی کے لیے مناسب پانی کی سخت قلت ہے۔ یہاں بارش کم ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے وحشی قوانین نے فلسطینیوں کے لیے زیرِ زمین پانی سے استفادے کی راہ مسدود کر دی ہے۔ یہاں کی مٹی میں نمک کا تناسب بڑھتا جارہا ہے جس نے زراعتی سرگرمیوں پر بہت زیادہ منفی اثر ڈالا ہے۔

ان سب پر ستم یہ ہوا کہ مصری حکومت نے غزہ سے متصل سر حدی علاقوں میں بھاری مقدار میں کھارا سمندری پانی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ چودہ کلومیٹر طویل سرحد کے اطراف میں سمندری پانی چھوڑنے کا مقصد غزہ سے مصر کو جوڑنے والی سرنگوں کو ختم کرنا ہے تاکہ اہلِ غزہ دوبارہ ان سرنگوں کو آمد و رفت کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔

گزشتہ سال غزہ پر ہونی والی اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں جو تباہی آئی اس سے ہر صاحبِ نظر واقف ہے۔ مکانات کھنڈر بن گئے۔ سڑکیں برباد ہوئیں۔ کارخانے بند ہو گئے۔ کاروباری سرگرمیاں رک گئیں۔ ہزاروں ہزار خاندان بے گھر ہوگئے۔ ہزار ہا ہزار بچوں کا تعلیمی سلسلہ رک گیا۔ ہزاروں زخمی اور مریض اب بھی موت سے لڑ رہے ہیں۔ بہت سے وہ بھی ہیں جو معذور ہو گئے۔ کوئی آنکھوں سے محروم ہوا تو کوئی بے دست و پاہے۔

غزہ کی یہ آزمائشیں اور یہ درد بھری صورتِ حال ہے۔ ایک طرف ظالم و دہشت گرد اور ان کے ہم نوا فرعون صفت افراد ہیں تو دوسری طرف مظلوم و ستم رسیدہ غزہ۔ پر کیا غزہ ٹوٹ گیا۔ کیا فاقہ مستوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ کیا وہ جینے کے لیے موت کا سامان کرنے کو تیار ہو گئے؟

غزہ پر ہونے والی وحشیانہ کارروائیوں پر محمود عباس اور فلسطینی حکومت کا موقف اور طرزِ عمل غیور قوم کے ماتھے پر کلنک ہے۔ اپنوں کی پشت پر خنجر گھونپنے والی ملی غیرت سے محروم فلسطینی حکومت کے رویے نے دشمن کے حوصلے مزید بلند کیے ہیں۔

واقعات پر نظر رکھنے والے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ غزہ کے خلاف ہونے والی بیشتر اسرائیلی کارروائیوں کے پیچھے محمود عباس اور اس کے ہم نواووں کی درپردہ تائید شامل ہوتی ہے پر غزہ کے جیالوں کو سلام ! کہ وہ بِکے نہیں اور جھکے نہیں۔

قریبی دنوں میں پیش آنے والے واقعات بتا رہے ہیں کہ اب ایک نیا انتفاضہ شروع ہونے والا ہے۔ اس انتفاضہ میں اپنی جرأت کا مظاہرہ کرنے کے لیے فاقوں کے مارے اہلِ غزہ دوسروں سے زیادہ پُر جوش نظر آتے ہیں۔ ان کا یہ حوصلہ ایک نئی تاریخ رقم کر کے رہے گا۔ان شاء اللہ