Category: 2015
2015 archives
شمارہ نومبر ۲۰۱۶
دسمبر ۲۰۱۵ شمارہ
Hayat-e-Nau – 2015 :: حیات نو ۲۰۱۵ جملہ شمارے
غزل – صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے
صد شکر وہ جفاؤں کے سانچے میں ڈھل گئے
ہم محوِ خواب ہونے سے پہلے سنبھل گئے
جن کی وفا پہ مجھ کو بہت ناز تھا کبھی
آیا جو وقت وہ بھی نگاہیں بدل گئے
وحشت شبِ فراق سے ہوتی بھی کیا ہمیں
داغِ جگر چراغوں کی مانند جل گئے
پیکر تراشوں کیسے کہ اب نالہ ہائے دِل
لفظوں کے اختیار سے باہر نکل گئے
تھا چاہیے تو یہ کہ بدلتے مزاجِ وقت
یہ کیا کہ ہم بھی وقت کے سانچے میں ڈھل گئے
غزل – زمین سرخی زماں سرخی مکیں سرخی مکاں سرخی
زمین سرخی زماں سرخی مکیں سرخی مکاں سرخی
بایں انداز اُگلے جارہی ہے’کن فکاں‘سرخی
جبیں ٹکرائی ہے سورج نے شب کے آستانے سے
شفق صورت جو چھٹکی ہے کنار آسماں سرخی
برس جاتا ہے ساون جب کبھی کشت دل وجاں پر
درون چشم اگ آتے ہیں ویرانی دھواں سرخی
بیاں کرتا ہے قصہ اور ہی منظر وقوعہ کا
مگر اخبار والوں نے لگائی ہے کہاں سرخی
گلابی تو برائے دیگراں چھلکی تھی محفل میں
ابھرآئی تھی ہونٹوں پر ہمارے ناگہاں سرخی
سفیدی ہی سفیدی رقص کرتی ہے رگوں میں اب
گئے وہ دن کہ شریانوں میں ہوتی تھی رواں سرخی
کئی صدیوں سے ہوں بے سمت راہوں کا مسافر میں
مرے قدموں تلے ہوتی رہی ہے رائیگاں سرخی
مسلسل ہی غموں نے دل کے دروازے پہ دستک دی
مسلسل ہی مری آنکھوں میں تھی نوحہ کناں سرخی
ہماری زندگی گویا کہ ہے اک دائرہ صارمؔ
ید قدرت نے رکھ چھوڑی ہے جس کے درمیاں سرخی
غزل – بستیاں ہوگئیں ویران کہاں جائیں گے
بستیاں ہوگئیں ویران کہاں جائیں گے
سب لیے بیٹھے ہیں طوفان کہاں جائیں گے
شاخ گل جس پہ نشیمن تھا وہی ٹوٹ گئی
ہوگئے بے سروسامان کہاں جائیں گے
اے غم دل، ہے کیوں آمادہ، جدا کرنے پر
اشک ہیں آنکھ کے مہمان کہاں جائیں گے
سوچیے جانے سے پہلے کہ اگر ختم ہوا
لوٹ کر آنے کا امکان کہاں جائیں گے
دوڑتی بھاگتی سڑکوں کا ہے یہ شہر، یہاں
ہے کوئی جان نہ پہچان کہاں جائیں گے
عالم تشنہ لبی قید میں دریائے فرات
اور لہو مانگتا میدان کہاں جائیں گے
ہے کھنڈر عظمت رفتہ کا یہ دنیا اشہرؔ
اب تو رہتے نہیں انسان کہاں جائیں گے
غزل
یہ کس مقام پہ لایا گیا خدایا مجھے
کہ آج روند کے گزرا ہے میرا سایہ مجھے
میں جیسے وقت کے ہاتھوں میں اک خزانہ تھا
کسی نے کھودیا مجھ کو کسی نے پایا مجھے
میں ایک لمحہ تھا اور نیند کے حصار میں تھا
پھر ایک روز کسی خواب نے جگایا مجھے
اِسی زمیں نے ستارہ کیا ہے میرا وجود
سمجھ رہے ہیں زمیں والے کیوں پرایا مجھے
جہاں کہ صدیوں کی خاموشیاں سلگتی ہیں
کسی خیال کی وحشت نے گنگنایا مجھے
نہ جانے کون ہوں، کس لمحۂ طلب میں ہوں
نبیلؔ چین سے جینا کبھی نہ آیا مجھے
انسانیت کا پاٹھ پڑھاتے ہیں مدرسے
انسانیت کا پاٹھ پڑھاتے ہیں مدرسے
امن واماں کی راہ دکھاتے ہیں مدرسے
اُدّیش زندگی کا بتاتے ہیں مدرسے
بھٹکے ہووں کو راہ دکھاتے ہیں مدرسے
اس سرزمیں پہ کوئی بھی جاہل نہیں رہے
علم وعمل کی شمع جلاتے ہیں مدرسے
غربت میں بھی زبان پہ شکوہ نہیں کوئی
صبر وسکوں کی چاہ جگاتے ہیں مدرسے
عربی زبان واردو وہندی کے ساتھ ساتھ
قرآں، حدیث، فقہ پڑھاتے ہیں مدرسے
ہو پندرہ اگست یا چھبیس جنوری
سالوں سے ان کا جشن مناتے ہیں مدرسے
اپنے وطن سے پیار ہو، اہل وطن سے بھی
یہ بھاؤنا سبھی میں جگاتے ہیں مدرسے
نفرت کی آگ پھیل نہ جائے چہار سو
سوئے ہوئے ضمیر جگاتے ہیں مدرسے
سایے میں جس کے بیٹھ کے سب کو سکوں ملے
الفت کے ایسے پیڑلگاتے ہیں مدرسے
دیتے ہیں سب کو درس مساوات کا نعیمؔ
دنیا سے بھید بھاؤ مٹاتے ہیں مدرسے
حمد باری تعالی
تیرا پیکر سرِ منظر ہے نہ صورت تیری
پھر بھی ہر شے سے ہویدا ہے حقیقت تیری
یہ نبوت، یہ رسالت تو ہے رحمت تیری
ورنہ دیتی ہے ہر اک چیز شہادت تیری
جس میں شرکت ہو، وہ توحید کہاں ہوتی ہے
جس کو شرکت سے ہے نفرت، وہ ہے غیرت تیری
تیرا انکار اندھیروں کو جنم دیتا ہے
تیرے اثبات سے روشن ہے حکومت تیری
فلسفے نقش ہیں پھولوں کے سبک پتوں پر
ثبت ہے برگ گل ولالہ پہ عظمت تیری
تیرے ہونے کی خبر جب بھی سحر دیتی ہے
ہر شجر جھوم کے کرتا ہے عبادت تیری
فلسفی بیٹھ گئے عقل پہ تکیہ کرکے
تیرے اسرار سمجھ پائے نہ حکمت تیری
توُ تو دیتا ہے انہیں بھی جو ہیں باغی تیرے
’’منبع جود وسخا، عام ہے رحمت تیری‘‘
جس کو سائنس کہا کرتی ہے نیچر راشدؔ
میرا ایماں اسے کہتا ہے مشیّت تیری
